مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
الرجل يصلي في الثوب الذي يجامع فيه باب: کیا آدمی ان کپڑوں میں نماز پڑھ سکتا ہے جن میں جماع کیا ہو؟
حدیث نمبر: 8635
٨٦٣٥ - حدثنا شبابة عن ليث (بن سعد) (١) عن يزيد بن أبي (حبيب) (٢) عن سويد ابن قيس عن معاوية بن (حُدَيج) (٣) عن معاوية بن أبي سفيان أنه سأل أم حبيبة (أخته) (٤) ابنة أبي سفيان هل كان النبي ﷺ يصلي في الثوب الذي كان يجامعها فيه قالت: نعم إذا لم ير فيه أذى (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاویہ بن ابی سفیان نے ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کپڑوں میں نما زپڑھا کرتے تھے جن میں آپ نے جماع کیا ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں، اگر اس میں گندگی نہ لگی ہو تو آپ ان کپڑوں میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
حواشی
(١) في [ز، ص] زيادة: (بن سعد).
(٢) في [أ، ك، هـ]: (خديج).
(٣) في [أ، ب]: (خديج).
(٤) سقط من: [أ].