مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
الرجل يحسن صلاته حيث يراه الناس باب: اگر کوئی آدمی لوگوں کو دکھا کر اچھی نماز پڑھے تو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 8628
٨٦٢٨ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن عبد اللَّه قال: من صلى صلاة والناس يرونه فليصل إذا (خلا) (١) مثلها وإلا فإنما هي استهانة يستهين بها ربه (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدا للہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے لوگوں کے دیکھنے کی صورت میں نماز پڑھی تو اسے چاہئے کہ وہ اکیلے میں بھی ایسی نماز پڑھے، وگرنہ اس نے اپنے رب کی توہین کی۔
حواشی
(١) في [أ]: (أخلا).