حدیث نمبر: 8627
٨٦٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا أبو خالد الأحمر عن (سعد) (١) بن إسحاق عن عاصم بن عمر بن قتادة عن محمود بن لبيد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (إياكم) (٢) و (شرك) (٣) السرائر"، قالوا وما شرك السرائر؟ قال: "أن يقوم أحدكم يزين (صلاته) (٤) جاهدًا لينظر الناس إليه فذلك شرك السرائر" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت محمود بن لبید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ چھپے ہوئے شرک سے بچو، چھپے ہوئے شرک سے بچو۔ لوگوں نے عرض کیا کہ چھپا ہوا شرک کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ کوئی آدمی نماز کو اس وجہ سے مزین کرے تاکہ لوگ اسے دیکھیں تو یہ چھپا ہوا شرک ہے۔

حواشی
(١) في [ز]: (سعيد).
(٢) تكررت في: [ز].
(٣) في [أ]: (وشراك).
(٤) كلمة غير واضحة في: [ز].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8627
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه أحمد (٢٣٦٣٠)، وابن خزيمة (٩٣٧)، والطبراني (٤٣٠١)، والبيهقي ٢/ ٢٩٠، والبغوي (٤١٣٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8627، ترقيم محمد عوامة 8489)