مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
الركوع والسجود أفضل (أم) القيام باب: رکوع وسجود افضل ہیں یا قیام؟
٨٥٧٤ - حدثنا جرير (بن) (١) عبد الحميد عن منصور عن سالم بن أبي الجعد قال: (حدثني أن رجلًا) (٢) أتى إلى أبي ذر بالربذة فقال: أين أبو ذر؟ فقالوا: هو في سفح ذاك الجبل في (غنيمة) (٣) له، قال: فأتيته فإذا هو يصلي (وإذا) (٤) هو يقل القيام ويكثر الركوع والسجود، (قال: فلما صلى قلت: يا أبا ذر رأيتك تصلي تقل القيام وتكثر الركوع والسجود) (٥) فقال: إني حدثت أنه ليس من مسلم يسجد للَّه سجدة إلا (رفعه) (٦) اللَّه بها درجة وكفر عنه بها (خطيئة) (٧) (٨).حضرت سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابو ذر کے پاس آیا اور اس نے پوچھا کہ ابو ذر کہاں ہیں ؟ لوگوں نے کہا کہ وہ پہاڑ کی چوٹی پر اپنے چھوٹے سے ریوڑ کے ساتھ ہیں۔ میں ان کے پاس آیا تو وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ وہ قیام کو مختصر رکھتے اور رکوع و سجود زیادہ کررہے تھے۔ جب انہوں نے نماز پڑھ لی تو میں نے عرض کیا اے ابو ذر ! میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نماز میں قیام کو مختصر رکھتے اور رکوع و سجود زیادہ کرتے تھے، اس کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان اللہ کے لئے ایک سجدہ کرتا ہے تو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے ایک درجہ کو بڑھا دیتے ہیں اور اس سے ایک گناہ کو کم کردیتے ہیں۔