مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من كان يصلي صلاة الاستسقاء باب: جو حضرات نمازِ استسقاء (بارش طلب کرنے کی نماز) پڑھا کرتے تھے
حدیث نمبر: 8558
٨٥٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن هشام بن إسحاق بن عبد اللَّه بن كنانة عن أبيه قال: أرسلني أمير من الأمراء إلى ابن عباس (أسأله) (١) عن ⦗٣٢١⦘ الاستسقاء فقال ابن عباس: ما منعه أن (يسألني) (٢) ثم قال ابن عباس: خرج رسول اللَّه ﷺ متواضعا (متبذلًا) (٣) متخشعا متضرعا (مترسلًا) (٤) (فصلى) (٥) ركعتين كما يصلي في العيد ولم يخطب (خطبتكم) (٦) هذه (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسحاق بن عبدا للہ بن کنانہ فرماتے ہیں کہ مجھے ایک امیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف بھیجا کہ میں ان سے نماز استسقاء کے بارے میں سوال کروں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اس نے مجھ سے خود اس بارے میں سوال کیوں نہیں کیا۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تواضع کے ساتھ، بغیر زینت اختیار فرمائے، خشوع وتضرع کے ساتھ، آہستہ آہستہ چلتے ہوئے تشریف لائے اور آپ نے اس طرح نماز پڑھائی جس طرح آپ عید کی نماز پڑھایا کرتے تھے، لیکن اس میں خطبہ نہ دیا۔
حواشی
(١) في [ك]: (أسله).
(٢) في [ب]: (يسلني).
(٣) في [هـ]: (متبذلًا).
(٤) في [أ، ب، ك]: (مرسلًا).
(٥) في [أ]: (وصلى).
(٦) في [ك]: (خطبكم).