مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
في الرجل يرى في النوم أنه احتلم (ولم ير بللا) باب: اگر کسی آدمی کو نیند میں احتلام محسوس ہو لیکن کپڑوں پر تری نظر نہ آئے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 855
٨٥٥ - حدثنا هشيم عن أبي حمزة قال: بينا أنا أسير على راحلتي وأنا بين النائم واليقظان، إذ وجدت شهوة، فأنكرت نفسي، فخرج مني ما بلَّ (بادي) (١) وما هناك، فسألت ابن عباس، فقال: اغسل ذكرك وما أصاب منك ولم يأمرني بالغسل (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حمزہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی سواری پر نیند اور بیداری کی درمیانی کیفیت میں جا رہا تھا کہ مجھے شہوت محسوس ہوئی، میں نے اپنے نفس کو جھٹلایا تو مجھ سے تھوڑا سا پانی نکلا جس سے میری ران کی جڑ تر ہوگئی اور اس کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ میں نے اس بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اپنے آلۂ تناسل اور جہاں تری محسوس ہو اس جگہ کو دھو لو۔ انہوں نے مجھے غسل کا حکم نہ دیا۔
حواشی
(١) أي: فخذي، وفي [أ، خ، د، هـ]: (نادي) وفي [س]: (إزاري).