حدیث نمبر: 8545
٨٥٤٥ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى (قال) (١): أخبرنا شيبان عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن عبد اللَّه بن عمرو بن (العاص) (٢) أنه لما انكسفت الشمس على عهد رسول اللَّه ﷺ نودي بالصلاة جامعة، فركع رسول اللَّه ﷺ ركعتين في سجدة ثم قام فركع ركعتين في سجدة ثم جلي عن الشمس، قال قالت عائشة: ما سجدت سجودًا قط ولا ركعت ركوعا قط كان أطول منه (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہوگیا تو اعلان ہوا کہ نماز کھڑی ہوگئی ہے۔ اس نماز میں آپ نے ایک سجدے کے ساتھ دو رکوع کئے، پھر کھڑے ہوئے اور ایک سجدے کے ساتھ دو رکوع کئے۔ پھر سورج روشن ہوگیا۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے اس سے لمبے سجدے اور اس سے لمبے رکوع کبھی نہیں کئے۔
حواشی
(١) زيادة (قال) في: [ز، ك].
(٢) في [أ، ز، ك]: (العاصي).