حدیث نمبر: 8544
٨٥٤٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا إسحاق بن عثمان (الكلابي) (١) عن أبي أيوب الهجري قال: انكسفت الشمس بالبصرة وابن عباس أمير عليها، فقام يصلي بالناس فقرأ (فأطال) (٢) القراءة، ثم ركع فأطال الركوع، ثم رفع رأسه ثم سجد، (ثم) (٣) فعل مثل ذلك في الثانية، فلما فرغ قال: هكذا صلاة الآيات، قال: فقلت: بأي شيء قرأ فيهما؟ قال: بالبقرة وآل عمران (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو ایوب ہجری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ بصرہ میں سورج گرہن ہوگیا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما وہاں کے امیر تھے۔ انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور اس میں طویل قراءت فرمائی۔ پھر لمبا رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور سجدہ کیا۔ پھر دوسری رکعت میں بھی یونہی کیا، جب فارغ ہوئے تو فرمایا کہ گرہن کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یونہی نماز پڑھا کرتے تھے۔ میں نے کہا ان رکعتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کون سی سورتوں کی قراءت کی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ سورة البقرۃ اور سورة آل عمران کی۔

حواشی
(١) سقط من: [أ].
(٢) في [ز]: (وأطال).
(٣) سقط من: [أ، ك، هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8544
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو أيوب الهجري صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8544، ترقيم محمد عوامة 8408)