حدیث نمبر: 8539
٨٥٣٩ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا مغيرة عن أبي الخير (بن) (١) تميم بن (حذلم) (٢) قال: كانت بالكوفة ظلمة فجاء (هني) (٣) بن نويرة (٤) معه صاحب له حتى دخلا على تميم بن (حذلم) (٥) وكان من أصحاب عبد اللَّه فوجداه يصلي قال: فقال لهما ارجعا إلى بيوتكما وصليا حتى ينجلي ما ترون فإنه كان يؤمر بذلك.مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ کوفہ میں اندھیرا ہوگیا، اس پر حضرت ھنی بن نویرہ آئے ان کے ساتھ ان کے ایک ساتھی بھی تھے۔ وہ دونوں حضرات حضرت تمیم بن حذلم کے پاس گئے۔ حضرت تمیم بن حذلم حضرت عبد اللہ کے ساتھیوں میں سے ہیں۔ ان دونوں حضرات نے تمیم بن حذلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو ان سے فرمایا کہ اپنے گھر چلے جاؤ اور اس وقت تک نماز پڑھو جب تک سورج روشن نہ ہوجائے۔ کیونکہ اسی بات کا حکم دیا گیا ہے۔
حواشی
(١) في [ك]: (بني).
(٢) في [ز]: (حدام)، وفي [ب]: (حدلم)، وفي [ص]: (جدلم).
(٣) في [ب]: (مجاهد).
(٤) في [ب، ز] زيادة: (و).
(٥) في [ز]: (حدام)، وفي [ب]: (حدلم)، وفي [ص]: (جدلم).