٨٥٣٥ - حدثنا الفضل بن دكين قال: ثنا زهير عن الأسود بن قيس قال: حدثني ثعلبة بن عباد العبدي أنه شهد يومًا خطبة لسمرة بن جندب فذكر في خطبته حديثًا عن رسول اللَّه ﷺ قال: قال لسمرة: (بينا) (١) أنا (يومًا) (٢) وغلام من الأنصار نرمي غرضا لنا على عهد رسول اللَّه ﷺ حتى إذا كانت الشمس قيد رمحين أو ثلاثة في عين الناظر من الأفق، اسودت حتى (آضت) (٣) كأنها تنومة قال: فقال أحدنا لأصحابه انطلق بنا إلى المسجد (٤) فواللَّه لتحدثن هذه الشمس لرسول اللَّه ﷺ في أمته حدثا (٥) قال: فدفعنا إلى المسجد فإذا هو بارز محتفل، قال: ووافقنا رسول اللَّه ﷺ حين خرج إلى الناس، فاستقدم فصلى بنا كأطول ما قام بنا في صلاة قط لا نسمع له صوتًا، (ثم سجد بنا كأطول ما سجد بنا في صلاة قط لا نسمع له صوتًا) (٦)، قال: ثم فعل في الركعة الثانية مثل ذلك، قال: فوافق تجلي الشمس جلوسه في الركعة الثانية فسلم (٧).حضرت ثعلبہ بن عباد عبدی کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت سمرہ بن جندب کے خطبے میں حاضر تھا، انہوں نے ذکر کیا کہ میں اور ایک انصاری لڑکا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک شکار کو نشانہ بنا رہے تھے کہ سورج افق سے دیکھنے والے کی آنکھ کے لئے دو یا تین نیزوں کے برابر رہ گیا۔ وہ تنومہ نامی کالی بوٹی کی طرح کالا ہوگیا۔ ہم میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا کہ چلو مسجد چلتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بارے میں اپنی امت سے ضرور کوئی بات فرمائیں گے۔ ہم فورا مسجد کی طرف گئے تو دیکھا کہ مسجد میں لوگوں کا رش ہے اور لوگ جمع ہیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد جانے کے لئے تشریف لائے تو ہمیں آپ کے ساتھ جانا نصیب ہوگیا۔ آپ آگے بڑھے اور آپ نے لوگوں کو اتنی لمبی نماز پڑھائی کہ اتنی لمبی نماز کبھی نہ پڑھائی تھی۔ ہم نے اس میں آپ کی آواز نہیں سنی۔ پھر آپ نے اتنا لمبا سجدہ کیا کہ اتنا لمبا سجدہ آپ نے کبھی نہ کیا تھا۔ ہم نے آپ کی آواز نہیں سنی۔ آپ نے دوسری رکعت میں بھی یوں ہی کیا۔ جب آپ دوسری رکعت کے قعدہ میں بیٹھے ہوئے تھے تو سورج روشن ہوگیا۔ پھر آپ نے سلام پھیر دیا۔