حدیث نمبر: 8519
٨٥١٩ - حدثنا أبو بكر (قال: ثنا وكيع) (١) قال: حدثنا ابن أبي خالد عن قيس بن ⦗٣٠٨⦘ أبي حازم عن (أبي) (٢) مسعود الأنصاري (٣) عقبة بن عمرو قال: (انكسفت) (٤) الشمس على عهد النبي ﷺ فقال الناس: إنما انكسفت لموت إبراهيم فقال النبي ﷺ: "إن الشمس والقمر لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياته ولكنهما آيتان من آيات اللَّه فإذا (رأيتموهما) (٥) فصلوا" (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو مسعود انصاری عقبہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک مرتبہ سورج گرہن ہوگیا۔ لوگوں نے کہا کہ سورج کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کی وفات کی وجہ سے گرہن ہوا ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ چاند اور سورج کو کسی کی زندگی اور کسی کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں، جب تم انہیں گرہن لگا ہوا دیکھو تو نماز پڑھو۔

حواشی
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [س]: (ابن).
(٣) في [ص، ز]: زيادة: (عن).
(٤) في [ز]: (انكشفت).
(٥) في [ب]: (رأيتموها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8519
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١٠٤١)، ومسلم (٩١١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8519، ترقيم محمد عوامة 8383)