٨٥١٧ - حدثنا غندر عن شعبة عن مغيرة عن الشعبي عن مسروق أنه قال: صلاة الخوف يقوم الإمام ويصفون (خلفه) (١) صفين، ثم يركع الإمام فيركع (بالذين) (٢) يلونه ثم يسجد بالذي يلونه، فإذا قام تأخر هؤلاء الذين يلونه وجاء الآخرون فقاموا مقامهم فركع بهم وسجد بهم والآخرون قيام، ثم يقومون فيقضون ركعة ركعة، (فيكون) (٣) للإمام ركعتان في جماعة، ويكون للقوم ركعة ركعة في جماعة، ويقضون الركعة الثانية.حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ خوف کی نماز میں امام کھڑا ہوگا اور لوگ اس کے پیچھے دو صفیں بنائیں گے۔ پھر امام رکوع کرے گا اور اس کے پیچھے موجود صف کے لوگ بھی رکوع کریں گے۔ پھر امام سجدہ کرے گا اور اس کے ساتھ موجود صف کے لوگ بھی سجدہ کریں گے۔ پھر جب اما م دوسری رکعت کے لئے کھڑا ہوگا تو اس صف کے لوگ پیچھے ہوجائیں گے اور دوسری جماعت کے لوگ آکر ان کی جگہ کھڑے ہوجائیں گے۔ امام ان کے ساتھ رکوع کرے گا اور سجدہ کرے گا۔ دوسرے لوگ کھڑے رہیں گے ، پھر یہ کھڑے ہوکر ایک ایک رکعت کی قضا کریں گے، اس طرح جماعت میں امام کی دو رکعتیں اور لوگوں کی ایک ایک رکعت ہوگی، پھر وہ دوسری رکعت کی قضا کریں گے۔