٨٥١٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا يحيى بن سعيد عن القاسم بن محمد عن صالح بن خوات عن سهل بن أبي (حثمة) (١) في صلاة الخوف قال: يقوم الإمام إلى القبلة ومعه طائفة وطائفة مواجهة العدو، (فيصلي) (٢) بمن معه ركعة فإذا قام (وقف قائمًا و) (٣) (٤) (صلى) (٥) الذين وراءه لأنفسهم ركعة وسجدوا وسلموا، ثم ذهبوا حتى يقوموا مقام إخوانهم (الذين) (٦) (بإزاء العدو، ورجع الآخرون على أعقابهم) (٧) فوقفوا خلف الإمام فصلى بهم ركعة (أخرى) (٨)، ثم سلم وقام الذين وراءهم فركعوا لأنفسهم وسجدوا وسلموا (٩).حضرت سہل بن ابی حثمہ نماز خوف کے بارے میں فرماتے ہیں کہ امام قبلے کی طرف رخ کرکے کھڑا ہوگا اور اس کے ساتھ ایک جماعت نما زپڑھے گی اور دوسری جماعت دشمن کی طرف رخ کرکے کھڑی ہوگی۔ وہ اس جماعت کو ایک رکعت پڑھائے گا۔ جب وہ دوسری رکعت کے لئے کھڑا ہو تو کھڑا رہے یہاں تک کہ اس کے پیچھے موجود جماعت اپنی ایک رکعت پڑھیں گے اور سجدہ کرکے سلام پھیر دیں گے۔ پھر یہ لوگ دشمن کی طرف چلے جائیں گے اور دشمن کے ساتھ پہلے سے موجود جماعت امام کے پیچھے آکر کھڑی ہوجائے، امام انہیں ایک رکعت پڑھا کر سلام پھیر دے۔ پھر ان کے پے چھج لوگ خود رکوع کریں، سجدہ کریں اور سلام پھیر دیں۔