٨٥١٤ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن مجاهد قال: سمعته يحدث عن (أبي) (١) عياش الزرقي أن النبي ﷺ كان مصاف العدو بعسفان، وعلى المشركين خالد بن الوليد، فصلى بهم النبي ﷺ الظهر ثم قال المشركون: إن لهم صلاة بعد هذه هي أحب إليهم من أموالهم وأبنائهم (٢)، فصلى بهم رسول اللَّه ﷺ فصفهم خلفه صفين، قال: فركع بهم رسول اللَّه ﷺ جميعًا، فلما رفعوا رؤوسهم (٣) (سجد الصف الذي يليه وقام الآخرون، فلما رفعوا رؤوسهم من السجود) (٤) سجد الصف المؤخر (لركوعهم) (٥) مع رسول اللَّه ﷺ، قال: ثم تأخر الصف المقدم وتقدم الصف ⦗٣٠٦⦘ المؤخر (لركوعهم) (٦) مع رسول اللَّه ﷺ، ثم تأخر الصف (المقدم) (٧) وتقدم الصف (المؤخر) (٨) فقام كل واحد منهما في مقام صاحبه ثم ركع وقام الآخرون، فلما فرغوا من سجودهم سجد الآخرون، ثم سلم النبي ﷺ عليهم (٩).حضرت ابو عیاش زرقی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عسفان میں دشمن کے سامنے برسرپیکار تھے، مشرکین کی قیادت اس وقت حضرت خالد بن ولید کے پاس تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو ظہر کی نماز پڑھائی تو مشرکین نے کہا کہ اس کے بعد ان کی ایک اور نماز ہے جو انہیں ان کے اموال واولاد سے زیادہ محبوب ہے۔ آپ کو ان کے اس ارادے کی اطلاع ہوئی تو آپ نے لوگوں کو اپنے پیچھے دو صفوں میں تقسیم فرمایا۔ چناچہ جب آپ نے رکوع کیا تو آپ کے ساتھ سب لوگوں نے رکوع کیا۔ جب لوگوں نے رکوع سے سر اٹھایا تو آپ کے ساتھ والی صف نے سجدہ کیا اور دوسری صف کے لوگ کھڑے رہے، جب پہلی صف نے سجدہ سے سر اٹھایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رکوع کرلینے کی وجہ سے اب سجدہ کیا۔ پھر اگلی صف پیچھے چلی گئی اور پچھلی صف آگے آگئی تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رکوع کریں۔ پھر پچھلی صف مؤخر ہوگئی اور اگلی صف مقدم، پھر دونوں میں سے ہر ایک دوسری کی جگہ پر کھڑ ی ہوئی۔ جب وہ سجدے سے فارغ ہوگئے تو دوسری جماعت نے سجدہ کی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب کو سلام کہا۔