حدیث نمبر: 8512
٨٥١٢ - حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن أن أبا موسى صلى بأصحابه بأصبهان، فصلت طائفة منهم معه وطائفة مواجهة العدو، فصلى بهم ركعة ثم نكصوا وأقبل الآخرون يتخللونهم، فصلى بهم ركعة ثم سلم، وقامت الطائفتان (فصلتا) (١) ركعة (ركعة) (٢) (٣).مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ حضرت ابوموسیٰ نے اصبہان میں اپنے ساتھیوں کو خوف کی نماز اس طرح پڑھائی کہ ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی رہی اور دوسری دشمن کی طرف رخ کرکے کھڑی ہوئی، آپ نے انہیں ایک رکعت پڑھائی اور وہ جماعت دشمن کی طرف چلی گئی۔ پھر دوسری جماعت آگئی اور آپ نے انہیں ایک رکعت پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ پھر دونوں جماعتوں نے اپنے طور پر ایک ایک رکعت پڑھی۔
حواشی
(١) في [ط]: (فصلينا).
(٢) في [ز]: زيادة (ركعة).
(٣) منقطع؛ الحسن لم يسمع من أبي موسى، أخرجه أبو الشيخ في طبقات أصبهان ١/ ٢٤١، وأبو نعيم في أخبار أصبهان ١/ ٥٩، والبيهقي ٣/ ٢٥٢، وخليفة بن خياط في التاريخ ص ١٣٩، والطبراني كما في مجمع الزوائد ٢/ ١٩٧.