حدیث نمبر: 8506
٨٥٠٦ - حدثنا يحيى بن آدم قال: ثنا] (١) سفيان عن موسى بن عقبة عن نافع عن ابن عمر قال: صلى (٢) رسول اللَّه ﷺ صلاة الخوف في بعض أيامه، فقامت طائفة معه وطائفة بإزاء العدو فصلى بالذين معه ركعة ثم ذهبوا، وجاء الآخرون فصلى بهم ركعة ثم قضت الطائفتان ركعة ركعة. قال: وقال ابن عمر: إذا كان خوف أكثر من ذلك فصل راكبا أو قائما تومئ إيماء (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن خوف کی نماز پڑھائی، ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہوئی اور ایک جماعت دشمن کے سامنے، آپ کے ساتھ موجود جماعت نے ایک رکعت پڑھی پھر وہ دشمن کی طرف چلی گئی، پھر دوسری جماعت آئی اور آپ نے اسے ایک رکعت پڑھائی، پھر دونوں جماعتوں نے بعد میں ایک ایک رکعت کی قضا کی۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر دشمن کا خوف اس سے بھی زیادہ ہو تو اشارے سے کھڑے ہو کر یا سوار ہو کر نماز پڑھ لو۔
حواشی
(١) سقط ما بين المعكوفين من: [س].
(٢) في [ز] زيادة: (لنا).