٨٤٩٩ - حدثنا وكيع قال: ثنا عمر بن ذر سمعه من مجاهد قال: كان رسول اللَّه ﷺ بعسفان والمشركون (بضجنان) (١)، فلما صلى (رسول اللَّه) (٢) ﷺ الظهر رآه المشركون [يركع ويسجد] (٣) فأتمروا أن (يغيروا) (٤)، عليه فلما حضرت العصر صف الناس خلفه صفين فكبر وكبروا جميعا (وركع) (٥)، وركعوا جميعًا، وسجد وسجد الصف الذين يلونه وقام الصف الثاني (الذين) (٦) بسلاحهم مقبلين على العدو بوجوههم، فلما رفع النبي ﷺ رأسه سجد الصف الثاني، فلما رفعوا رؤوسهم ركع وركعوا (جميعًا) (٧) وسجد وسجد الصف الذين يلونه، وقام الصف الثاني ⦗٣٠١⦘ بسلاحهم مقبلين على العدو بوجوههم، فلما رفع النبي ﷺ رأسه سجد الصف الثاني، قال: (قال) (٨) مجاهد: فكان تكبيرهم وركوعهم وتسليمه عليهم سواء، وتناصفوا في السجود قال: قال مجاهد: فلم يصل رسول اللَّه ﷺ صلاة الخوف قبل يومه ولا بعده (٩).حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عسفان میں تھے اور مشرکین ضجنان میں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی تو مشرکین نے آپ کو رکوع اور سجدہ کرتے دیکھاتو ارادہ کیا کہ ان پر حملہ کردیں۔ پھر جب عصر کا وقت ہوا تو آپ نے لوگوں کی اپنے پیچھے دو صفیں بنائیں، جب آپ نے تکبر کہی تو سب نے تکبیر کہی، جب رکوع کیا تو سب نے رکوع کیا، جب سجدہ کیا تو آپ کے پیچھے موجود صف نے سجدہ کیا اور دوسری صف کے لوگ دشمن کی طرف منہ کرکے ہتھیار لئے کھڑے رہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدے سے سر اٹھایا تو دوسری صف نے سجدہ کیا۔ جب انہوں نے سجدے سے سر اٹھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا اور سب لوگوں نے بھی رکوع کیا۔ پھر آپ نے سجدہ کیا اور آپ کے پیچھے موجود صف نے سجدہ کیا، اور دوسری صف کے لوگ دشمن کی طرف ہتھیار لئے کھڑے رہے، جب آپ نے سجدے سے سر اٹھایا تو دوسری صف کے لوگوں نے سجدہ کا ۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ لوگ تکبیر، رکوع اور سلام میں اکھٹے اور سجدوں میں آگے پیچھے تھے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خوف کی نماز نہ اس سے پہلے کبھی پڑھی اور نہ اس کے بعد۔