حدیث نمبر: 8496
٨٤٩٦ - حدثنا محمد (١) بن (بشر) (٢) قال: ثنا سعيد عن قتادة عن (أبي) (٣) العالية (الرياحي) (٤) أن أبا موسى (الأشعري) (٥) كان بالدار من أصبهان وما بهم يومئذ ⦗٢٩٩⦘ كثير خوف، ولكن أحب أن يعلمهم دينهم وسنة نبيهم ﷺ فجعلهم صفين، طائفة معها السلاح مقبلة على عدوها وطائفة (وراءها) (٦)، فصلى (بالذين) (٧) (يلونه) (٨) ركعة، ثم نكصوا على أدبارهم حتى قاموا مقام الآخرين يتخللونهم حتى قاموا وراءه فصلى بهم ركعة أخرى، ثم سلم فقام الذين يلونه والآخرون صلوا ركعة ركعة، فسلم بهم بعضهم على بعض، فتمت للإمام ركعتان في جماعة وللناس ركعة ركعة (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو عالیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری اصبہان کے ایک علاقے میں تھے، انہیں دشمن کا بہت زیادہ خوف نہ تھا، لیکن وہ لوگوں کو دین اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی تعلیم دینا چاہتے تھے۔ پس انہوں نے لوگوں کی دو جماعتیں بنائیں، ایک جماعت کو اسلحہ کے ساتھ دشمن کے سامنے کھڑا کردیا اور دوسری جماعت کو اپنے پیچھے رکھا، انہوں نے اپنے پیچھے موجود جماعت کو ایک رکعت پڑھائی، پھر وہ الٹے پاؤں دوسری جماعت کی جگہ دشمن کے سامنے چلے گئے ، پھر وہ جماعت آکر حضرت ابو موسیٰ کے پیچھے کھڑی ہوگئی انہوں نے اس جماعت کو دوسری رکعت پڑھائی۔ پھر سلام پھیرا ، پھر وہ لوگ جو پہلی رکعت پڑھ کر دشمن کے سامنے چلے گئے تھے وہ آئے اور انہوں نے ایک رکعت ادا کی، اور دوسروں نے بھی ایک رکعت پڑھی۔ پھر انہوں نے ایک دوسرے کو سلام کیا، اس طرح امام کی دو رکعتیں پوری ہوگئیں اور دونوں جماعتوں کی امام کے پیچھے ایک ایک رکعت ہوگئی۔

حواشی
(١) في [ب]: (أبو محمد).
(٢) في [أ، ب، ص]: (بشير).
(٣) في [ك]: (لي).
(٤) في [ص]: (الربعي).
(٥) في [ب، هـ]: (الأسدي).
(٦) في [ب]: بياض.
(٧) في [أ]: (بالذي).
(٨) في [أ، ب، هـ]: (معه).
(٩) منقطع حكمًا؛ قتادة مدلس، أخرجه أبو الشيخ في طبقات المحدثين بأصبهان (١/ ٢٤٢)، والطبراني كما في مجمع الزوائد (٢/ ١٩٧)، وأبو نعيم في أخبار أصبهان (١/ ٥٩)، والبيهقي (٢/ ٢٥٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8496
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8496، ترقيم محمد عوامة 8360)