مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من قال يجمع المسافر بين الصلاتين باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ مسافر دو نمازوں کو جمع کرسکتا ہے
٨٤٥٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن محمد بن إسحاق عن حفص بن (عبيد) (١) اللَّه ابن أنس قال: كنا نسافر مع أنس بن مالك، فكان إذا زالت الشمس وهو في منزل لم يركب حتى يصلي الظهر، (فإذا) (٢) راح فحضرت (صلاة العصر) (٣) فإن سار من منزله قبل أن تزول فحضرت الصلاة قلنا له: الصلاة فيقول: سيروا، حتى إذا كان بين الصلاتين نزل فجمع بين الظهر والعصر ثم يقول: رأيت رسول اللَّه ﷺ إذا وصل ضحوته بروحته صنع هكذا (٤).حضرت حفص بن عبیداللہ بن انس کہتے ہیں کہ ہم حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے، جب سورج زائل ہوجاتا اور وہ کسی منزل پر ہوتے تو عصر پڑھنے سے پہلے سوار نہ ہوتے تھے اور جب کوچ کرجاتے اور عصر کا وقت ہوجاتا تو عصر کی نماز پڑھا کرتے تھے۔ اگر زوال شمس سے پہلے وہ کسی منزل سے کوچ کرتے تو ہم ان سے کہتے کہ نماز کا وقت ہونے والا ہے۔ وہ فرماتے کہ چلتے رہو۔ پھر جب دونوں نمازوں کا درمیانی وقت آتا تو اترتے اور ظہر اور عصر کی نماز کو ادا فرماتے ۔ پھر فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی یونہی کرتے دیکھا ہے۔