حدیث نمبر: 8400
٨٤٠٠ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عروة عن عائشة أن الصلاة أول ما فرضت ركعتين فزيدت في صلاة الحضر وأقرت (في) (١) صلاة السفر فقلت لعروة: ⦗٢٧٦⦘ ما بال عائشة كانت تتم الصلاة في السفر وهي تقول هذا؟ قال: تأولت ما تأول عثمان. فلم أسأله ما تأول عثمان (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پہلے دو رکعتیں فرض ہوئی تھیں۔ پھر حضر کی نماز میں اضافہ کردیا گیا اور سفر کی نماز کو جوں کا توں باقی رکھا گیا۔ حضر ت زہری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عروہ سے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یہ بات بھی فرماتی ہیں اور سفر میں پوری نماز بھی پڑھتی ہیں اس کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ وہی تاویل کرتی ہیں جو حضرت عثمان نے کی ہے، میں نے ان سے نہیں پوچھا کہ حضرت عثمان نے اس کی کیا تاویل کی ہے۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ك].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8400
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١٠٩٠)، ومسلم (٦٨٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8400، ترقيم محمد عوامة 8266)