حدیث نمبر: 8392
٨٣٩٢ - حدثنا ابن علية عن علي بن زيد عن أبي نضرة قال: مر عمران بن حصين في مجلسنا فقام إليه فتى من القوم فسأله عن صلاة رسول اللَّه ﷺ في الحج والغزو والعمرة، فجاء فوقف علينا فقال: (إن) (١) هذا سألني عن أمر فأردت أن تسمعوه أو كما قال: (قال) (٢) غزوت مع رسول اللَّه ﷺ فلم يصل إلا ركعتين حتى رجع إلى المدينة، وحججت معه فلم يصل إلا ركعتين حتى رجع إلى المدينة، وشهدت معه الفتح فأقام بمكة ثماني (عشرة) (٣) ليلة لا يصلي إلا ركعتين (٤) يقول (لأهل) (٥) البلد: "صلوا أربعًا فإنا سفر"، واعتمرت معه ثلاث عمر لا يصلي إلا ركعتين، وحججت مع أبي بكر وغزوت فلم يصل إلا ركعتين حتى رجع إلى المدينة، (وحججت مع عمر حجات فلم يصل إلا ركعتين حتى رجع إلى المدينة) (٦)، ⦗٢٧٤⦘ وحججت مع عثمان سبع سنين من إمارته لا يصلي إلا ركعتين ثم (صلى) (٧) بمنى أربعًا (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین ہماری مجلس کے پاس سے گذرے تو ایک نوجوان نے کھڑے ہو کر ان سے کہا کہ آپ ہمیں یہ بتائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج، جہاد اور عمرے میں کیسی نماز ادا فرماتے تھے ؟ وہ آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہوگئے اور فرمایا : اس نے مجھ سے ایسی بات کے بارے میں سوال کیا ہے جو میں تمہیں بھی سنانا چاہتا ہوں۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد میں حصہ لیا ہے۔ آپ مدینہ واپس آنے تک دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ میں نے آپ کے ساتھ حج کیا ہے آپ مدینہ آنے تک دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ فتح مکہ والے سال مکہ میں قیام پذیر رہا ، آپ نے اٹھارہ راتیں وہاں قیام فرمایا۔ اس دوران آپ دو رکعات نماز پڑھاتے اور پھر سلام پیرمکر مکہ والوں سے کہتے تھے کہ اپنی چار رکعات پوری کرلو ہم مسافر لوگ ہیں۔ میں نے حضر ت ابوبکر کے ساتھ حج اور جہاد کیا وہ مدینہ آنے تک دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے۔ میں نے حضرت عمر کے ساتھ کئی حج کئے وہ مدینہ آنے تک دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے۔ میں نے حضرت عثمان کی امارت میں سات سال حج کیا وہ بھی دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے۔ پھر انہوں نے منی میں چار رکعتیں ادا فرمائیں۔

حواشی
(١) في [هـ]: (أما).
(٢) سقط من: [أ، ك].
(٣) في [ك، ب]: (عشر).
(٤) زيادة في [أ]: (وحججت مع أبي بكر).
(٥) في [هـ]: (لأهلي).
(٦) سقط من: [أ].
(٧) في [ك]: (صلاها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8392
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه أحمد (١٩٨٧)، وأبو داود (١٢٢٩)، والترمذي (٥٤٥)، وابن خزيمة (١٦٤٣)، والشافعي في السنن (١٢)، والطيالسي (٨٤٠)، والبزار (٣٦٠٨)، والطبراني ١٨/ (٥١٥)، والدولابي ٢/ ٧، وابن المنذر في الأوسط (٢٢٤٣)، والطحاوي ١/ ٤١٧، والبيهقي ٣/ ١٣٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8392، ترقيم محمد عوامة 8258)