حدیث نمبر: 8389
٨٣٨٩ - حدثنا أبو الأحوص عن (١) أبي إسحاق عن أبي (السفر) (٢) قال: (رأيت) (٣) عبد اللَّه بن مغفل بالمدائن فقلت: إني إمام قومي وإني أريد الرجوع إلى أهلي فكم أصليًا قال) (٤): [أربعًا، ثم لقيته بعد بالري فقلت: إني أريد (الرجعة) (٥) إلى أهلي فكم تأمرني أن أصلي قال] (٦): ركعتين (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں مدائن میں حضرت عبد اللہ بن معقل سے ملا اور میں نے ان سے عرض کیا کہ میں اپنی قوم کا امام ہوں اور میں اپنے گھر واپس جانا چاہتا ہوں، میں کتنی رکعات پڑھاؤں ؟ انہوں نے فرمایا چار۔ پھر میں بعد میں انہیں ریّ میں ملا اور میں نے کہا کہ میں اپنی قوم کا امام ہوں اور اپنے گھر واپس جانا چاہتا ہوں ، آپ مجھے کتنی رکعتیں پڑھنے کا حکم دیتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا دو ۔

حواشی
(١) في [ص، هـ] زيادة: (ابن).
(٢) في [ز]: (السقر).
(٣) في [ز]: (لقيت).
(٤) في [ز]: (فقال).
(٥) في [ص]: (أن أرجع).
(٦) سقط ما بين المعكوفين من: [ز].
(٧) منقطع حكمًا؛ أبو إسحاق مدلس.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8389
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8389، ترقيم محمد عوامة 8255)