مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من كان يقصر الصلاة باب: جو حضرات سفر میں قصر نماز پڑھا کرتے تھے
٨٣٧٩ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سعيد بن عبيد الطائي عن علي بن ربيعة (الوالبي) (١) عن الربيع بن نضلة قال (٢): خرجنا في سفر ونحن اثنا عشر أو ثلاثة ⦗٢٧٠⦘ عشر راكبا كلهم قد صحب النبي ﷺ (غيري) (٣) قال: فحضرت الصلاة فتدافع القوم فتقدم شاب منهم فصلى بهم أربع ركعات، فلما صلى قال سلمان: ما لنا وللمربوعة يكفينا نصف المربوعة، نحن إلى التخفيف أفقر، فقالوا: تقدم أنت يا أبا عبد اللَّه فصل بنا، فقال: أنتم بنو إسماعيل الأئمة، ونحن الوزراء (٤).حضرت ربیع بن نضلہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں بارہ یا تیرہ آدمی روانہ ہوئے، میرے علاوہ باقی سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحبت یافتہ افراد تھے۔ جب نماز کا وقت آیا تو وہ سب ایک دوسرے کو امامت کے لئے آگے کرنے لگے۔ ان میں سے ایک نوجوان آگے بڑھے اور انہوں نے چار رکعات پڑھائیں۔ جب نما زپڑھا چکے تو حضرت سلمان نے فرمایا ہم چار رکعات کیوں پڑھیں ؟ ہمارے لئے چار کا نصف دو رکعتیں ہی کافی ہیں۔ ہم تخفیف کے زیادہ محتاج ہیں۔ اس پر سب نے کہا کہ اے ابو عبد اللہ ! آپ ہی نماز پڑھایا کریں۔ انہوں نے فرمایا کہ تم بنو اسماعیل ائمہ ہو اور ہم وزراء ہیں۔