مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من كان يقصر الصلاة باب: جو حضرات سفر میں قصر نماز پڑھا کرتے تھے
٨٣٧٨ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن ابن أبي ليلى قال: خرج سلمان في ثلاثة عشر رجلًا من أصحاب رسول اللَّه ﷺ غزاة وسلمان أسنهم فلما حضرت الصلاة (قالوا) (١) له: تقدم يا أبا عبد اللَّه، فقال: (ما) (٢) أنا بالذي أتقدم وأنتم العرب منكم النبي ﷺ فليتقدم بعضكم، (فتقدم) (٣) بعض القوم فصلى بهم أربع ركعات، فلما قضينا الصلاة قال سلمان: (ما لنا و) (٤) ما للمربعة، إنما كان يكفينا (ركعتان) (٥) نصف المربعة (٦).حضرت ابو لیلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان بارہ صحابہ کرام کے ساتھ ایک جنگ کے لئے نکلے، وہ عمر میں ان سب سے زیادہ تھے۔ جب نماز کا وقت ہوا تو سب نے کہا کہ اے ابو عبداللہ ! آپ امامت کرائیں۔ انہوں نے فرمایا کہ میں امامت کا استحقاق نہیں رکھتا، تم عرب ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہی میں سے ہیں۔ لہٰذا تم میں سے کوئی آگے بڑھ کر امامت کرائے۔ اس پر ایک صاحب آگے بڑھے اور انہوں نے چار رکعات پڑھائیں۔ جب ہم نے نما زمکمل کرلی تو حضرت سلمان نے فرمایا کہ ہم چار رکعات کیوں پڑھیں ؟ ہمارے لئے چار کا نصف دو رکعتیں ہی کافی ہیں۔