حدیث نمبر: 8377
٨٣٧٧ - حدثنا ابن إدريس عن ابن جريج عن ابن أبي عمار عن عبد اللَّه بن (باباه) (١) عن يعلى بن أمية قال: سألت عمر بن الخطاب قلت: ﴿فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ [النساء: ١٠١]، وقد أمن الناس فقال: عجبت مما عجبت منه فسألت رسول اللَّه ﷺ عن ذلك فقال: "صدقة تصدق اللَّه بها عليكم فاقبلوا صدقته" (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت یعلی رضی اللہ عنہ بن امیہ فرماتے ہں ا کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : جب تمہیں اس بات کا خوف ہو کہ کافر تمہیں تکلیف پہنچائیں گے تو یہ بات حرج سے خالی ہے کہ تم نما ز میں قصر کرلو۔ میں نے کہا کہ اب تو امن کا زمانہ ہے، لہٰذا قصر کیا جائے گا یا نہیں ؟ حضرت عمر نے فرمایا کہ جس بات پر تمہیں اشکال ہوا ہے مجھے بھی اسی بات پر اشکال ہوا تھا، ا س پر میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تھا، آپ نے فرمایا تھا کہ یہ اللہ کی طرف سے تم پر صدقہ ہے، اس صدقے کو قبول کرو۔

حواشی
(١) في [ص]: (ماباه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8377
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٦٨٦)، وأحمد (١٧٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8377، ترقيم محمد عوامة 8243)