مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من كان يقصر الصلاة باب: جو حضرات سفر میں قصر نماز پڑھا کرتے تھے
٨٣٧٧ - حدثنا ابن إدريس عن ابن جريج عن ابن أبي عمار عن عبد اللَّه بن (باباه) (١) عن يعلى بن أمية قال: سألت عمر بن الخطاب قلت: ﴿فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ [النساء: ١٠١]، وقد أمن الناس فقال: عجبت مما عجبت منه فسألت رسول اللَّه ﷺ عن ذلك فقال: "صدقة تصدق اللَّه بها عليكم فاقبلوا صدقته" (٢).حضرت یعلی رضی اللہ عنہ بن امیہ فرماتے ہں ا کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : جب تمہیں اس بات کا خوف ہو کہ کافر تمہیں تکلیف پہنچائیں گے تو یہ بات حرج سے خالی ہے کہ تم نما ز میں قصر کرلو۔ میں نے کہا کہ اب تو امن کا زمانہ ہے، لہٰذا قصر کیا جائے گا یا نہیں ؟ حضرت عمر نے فرمایا کہ جس بات پر تمہیں اشکال ہوا ہے مجھے بھی اسی بات پر اشکال ہوا تھا، ا س پر میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تھا، آپ نے فرمایا تھا کہ یہ اللہ کی طرف سے تم پر صدقہ ہے، اس صدقے کو قبول کرو۔