مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من كان يقصر الصلاة باب: جو حضرات سفر میں قصر نماز پڑھا کرتے تھے
حدیث نمبر: 8375
٨٣٧٥ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن (١) سعيد (عن) (٢) (شفي) (٣) قال: قلت لابن عباس إنا قوم كنا إذا سافرنا كان معنا من يكفينا الخدمة من غلماننا فكيف نصلي؟ فقال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا سافر صلى ركعتين حتى يرجع، قال: ثم عدت فسألته، فقال مثل ذلك، ثم عدت فقال لي بعض القوم: (أما) (٤) (تعقل) (٥) أما تسمع ما يقول لك (٦)؟.مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن شفی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ ہم لوگ جب سفر کرتے ہیں تو ہمارے ساتھ اتنے خادم وغیرہ ہوتے ہیں جو ہماری ضروریات کا انتظام کردیتے ہیں، سو ہم کیسے نماز پڑھیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی سفر پر تشریف لے جاتے تو واپس آنے تک دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ میں نے پھر یہی سوال کیا انہوں نے وہی جواب دیا۔ میں نے پھر سوال کیا تو ایک آدمی نے مجھے کہا کہ تمہیں ان کی بات سمجھ نہیں آرہی ؟ تم نہیں سنتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔
حواشی
(١) في [أ، ك، هـ] زيادة: (أبي).
(٢) في [أ، ز]: (بن).
(٣) في [ص، ك]: (شقي)، وفي [أ]: (سفي).
(٤) في [ب، ك]: (إنما).
(٥) في [أ، ب]: (تفعل).