مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في مسيرة كم يقصر الصلاة؟ باب: کتنی مسافت پر نماز میں قصر کیا جائے گا
حدیث نمبر: 8361
٨٣٦١ - حدثنا عبيد عن سعيد عن شعبة (عن) (١) يزيد بن (خمير) (٢) قال: سمعت حبيب بن عبيد يحدث عن جبير بن (نفير) (٣) عن (ابن) (٤) السمط قال: شهدت عمر بذي الحليفة كأنه يريد مكة صلى ركعتين فقلت له: لم تفعل هذا؟ قال: إنما أصنع كما رأيت رسول اللَّه (ﷺ) (٥) يصنع (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سمط کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کے ساتھ مکہ سے ذوالحلیفہ کا سفر کیا، وہاں پہنچ کر انہوں نے قصر نماز پڑھی تو میں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی یونہی کرتے دیکھا تھا۔
حواشی
(١) في [ص]: (بن).
(٢) في [أ، ب، ك]: (جبير).
(٣) في [أ]: (نقير).
(٤) في [أ، هـ]: (أبي).
(٥) سقط من: [ك].