مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
قوله (تعالى): ﴿ولا تجهر بصلاتك﴾ باب: ارشاد باری تعالى «وَلَا تَجْهَرُ بِصَلَاتِك »، اپنی دعا میں آواز کو اونچا مت کرو کی تفسیر
حدیث نمبر: 8315
٨٣١٥ - حدثنا يحيى بن أبي (بكير) (١) عن شعبة عن منصور عن ابن سيرين. ⦗٢٥٥⦘ ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ قال: (يحسن) (٢) علانية (ويتجوز) (٣) سرا: ﴿وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا﴾ قال: (تجعلها) (٤) سواء في السر والعلانية.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین اللہ تعالیٰ کے فرمان { وَلاَ تَجْہَرْ بِصَلاَتِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَا } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اسے علانیہ طور پر خوبصورت اور پوشیدہ طور پر عمدہ ہونا چاہئے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فرمان { وَابْتَغِ بَیْنَ ذَلِکَ سَبِیلاً } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کا معنی ہے کہ تم اسے ظاہری اور باطنی طور پر برابر رکھو۔
حواشی
(١) في [ك]: (بكر).
(٢) في [أ، ب، ز، ك]: (الحسن).
(٣) في [أ، جـ، هـ]: (يجوز)، وفي [جـ، ز]: (يجور).
(٤) في [ص، هـ]: (تجعل).