مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
الرجل يصلي وشعره معقوص باب: بالوں کی چوٹیاں بنا کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 8261
٨٢٦١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن زيد بن وهب عن عبد اللَّه أنه دخل المسجد فإذا فيه رجل يصلي عاقصا شعره فلما انصرف قال عبد اللَّه: إذا صليت فلا تعقص شعرك، فإن شعرك يسجد معك، ولك بكل شعرة (أجر) (١) فقال الرجل: إني أخاف أن (يترب) (٢) فقال: تتريبه خير لك (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وہب فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک آدمی بالوں کو باندھ کر نماز پڑھ رہا ہے، جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ جب تم نماز پڑھو تو اپنے بالوں کی چوٹیاں نہ باندھو، کیونکہ تمہارے بال بھی تمہارے ساتھ سجدہ کرتے ہیں، اور تمہیں ہر بال کے سجدے کا ثواب ملتا ہے۔ ایک آدمی نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں میرے بال تتر بتر نہ ہوجائیں۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ ان کا بکھرنا ان کے باندھنے سے بہتر ہے۔
حواشی
(١) في [ب]: (أجير).
(٢) في [ص]: (يتترب).