مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من قال لا يعيد تجزئه صلاته باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ اسے دوبارہ نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں اس کی نماز ہو جائے گی
حدیث نمبر: 8256
٨٢٥٦ - حدثنا معتمر عن كثير بن (نباتة) (١) قال: سمعت ابن سيرين يقول: خرجت في سفر حج أو (غيره) (٢) فلما كان من آخر الليل (أصابتني) (٣) جنابة وليس معنا ماء فتيممت (وصليت) (٤) فلما ارتفع الضحى قال رجل: يا أبا بكر أعدت صلاتك قال: ولو لم أجد الماء عشرين سنة أكنت أعيد صلاتي.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ میں حج یا عمرہ کے ایک سفر پر تھا، جب رات کا آخری حصہ ہوا تو مجھے جنابت لاحق ہوگئی۔ ہمارے پاس پانی نہ تھا، میں نے تیمم کرکے نماز پڑھی، جب چاشت کا وقت ہوگیا تو ایک آدمی نے کہا کہ اے ابوبکر ! آپ نے اپنی نماز دہرا لی ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر مجھے بیس سال تک بھی پانی نہ ملے تو کیا میں نماز کا اعادہ کروں گا ؟
حواشی
(١) في [أ]: (بنانة).
(٢) في [ص، ز، هـ]: (عمرة).
(٣) في [ز، ك]: (أصابني).
(٤) سقط من: [أ].