مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من قال لا يعيد تجزئه صلاته باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ اسے دوبارہ نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں اس کی نماز ہو جائے گی
٨٢٥٥ - حدثنا معتمر (بن سليمان) (١) عن الحكم بن أبان عن عكرمة قال: كنت أنا في رفقة (وعكرمة في رفقة) (٢) فلم يكن مع عكرمة وأصحابه ماء، فتيمموا وصلوا فأتوا على الماء فقال لهم عكرمة: ترون الشمس على رأس الجبل؟ فقالوا: لا قال: لو رأيتموها لم نعد، (إذن) (٣) كفانا التيمم فقال: فانطلقت حتى دخلت (الجند) (٤) فلقيت عمرو بن مسلم صاحب طاوس فحدثته بما قال عكرمة، فانطلق إلى طاوس فذكر ذلك له ثم رجع إلي فقال: ذكرت لطاوس ما قال عكرمة، فقال: صدق.حضرت حکم بن ابان فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ ایک جماعت میں تھے اور میں ایک دوسری جماعت میں تھا، حضرت عکرمہ کی جماعت کے پاس پانی نہیں تھا، وہ تیمم کرکے نماز پڑھتے تھے۔ پھر جب وہ پانی کے پاس پہنچے تو حضر ت عکرمہ نے ان سے فرمایا کہ کیا تم پہاڑوں کے اوپر سورج کو دیکھ رہے ہو ؟ لوگوں نے کہا نہیں۔ حضرت عکرمہ نے فرمایا کہ اگر تم سورج کو دیکھتے پھر بھی ہم نماز کا اعادہ نہ کرتے کیونکہ ہمارے لئے تیمم کافی ہے۔ پھر جب میں مقام جند پہنچا تو میری حضرت طاوس کے شاگرد عمرو بن مسلم سے ملاقات ہوئی، میں نے ان سے حضرت عکرمہ کی اس بات کا ذکر کیا تو وہ حضرت طاوس کے پاس گئے اور ان سے اس بات کا ذکر کیا۔ پھر میرے پاس واپس آئے اور مجھے بتایا کہ میں نے حضرت طاوس سے عکرمہ کی بات کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ سچ کہتے ہیں۔