مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
الرجل يجد البلة وهو يصلي باب: اگر آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے تری محسوس ہو تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 8223
٨٢٢٣ - حدثنا معتمر أنه سمع أباه يحدث أن زيد بن ثابت وحذيفة والحسن البصري وعطاء لم يروا بأسا بالبلة يجدها الرجل وهو يصلي، إلا أن عطاء قال: إلا أن (تقطر) (١) (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت معتمر کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ، حسن بصری اور حضرت عطاء اس بات میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ آدمی نماز میں اپنے آلۂ تناسل پر تری محسوس کرے۔ البتہ حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر قطرہ نکل آئے تو وضو ٹوٹ گیا۔ حضرت سعد بن مسیب فرماتے ہیں کہ اگر پیشاب کا قطرہ تمہارے پاؤں پر گرے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں، نہ اس پر اعادہ لازم ہے اور نہ ہی وضو کرنا لازم ہے۔
حواشی
(١) في [أ]: (يقطر).
(٢) منقطع؛ سليمان التيمي والد معتمر لم يسمع من زيد.