مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
الرجل (يرى) أنه أحدث في الصلاة باب: اگر کسی آدمی کو نماز میں یہ محسوس ہو کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 8221
٨٢٢١ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا الأعمش قال: حدثنا المنهال (١) عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: إن الشيطان يطيف بالعبد ليقطع عليه صلاته، فإذا أعياه نفخ في دبره فلا ينصرف حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا، ويأتيه فيعصر ذكره فيريه أنه (أخرج) (٢) منه شيء فلا ينصرف حتى يستيقن (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ شیطان بعض اوقات نماز میں آدمی کو وسوسہ ڈالتا ہے تاکہ اس کی نماز کو توڑ دے، بندہ جب تنگ ہوجاتا ہے تو وہ اس کی سرین پر پھونک مارتا ہے ۔ پس جب تک کوئی آواز نہ سنائی دے یا کوئی بو محسوس نہ ہو اس وقت تک نماز نہ توڑو۔ اسی طرح وہ آکر اس کے ذکر کو ہاتھ لگاتا ہے اور آدمی سمجھتا ہے کہ اس سے کوئی چیز خارج ہوئی ہے، پس یہ اس وقت تک نماز کو نہ توڑے جب تک اسے یقین نہ ہوجائے۔
حواشی
(١) في [هـ] زيادة: (ابن عمر).
(٢) في [س]: (قد خرج)، وفي [ب]: (خرج)، وفي [ط]: (قد أُخرج).