مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
الرجل (يرى) أنه أحدث في الصلاة باب: اگر کسی آدمی کو نماز میں یہ محسوس ہو کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 8213
٨٢١٣ - حدثنا محمد بن فضيل عن الأعمش عن المنهال (بن) (١) عمرو (عن) (٢) قيس بن (سكن) (٣) عن عبد اللَّه قال: إن الشيطان يأتي أحدكم وهو في الصلاة فيبل إحليله حتى يرى أنه قد أحدث، وأنه يأتيه فيضرب دبره فيريه أنه قد أحدث، فلا تنصرفوا حتى تجدوا ريحا أو تجدوا بللا (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ شیطان تم میں سے کسی کی نماز میں آکر اس کے آلۂ تناسل کے سوراخ کو گیلا کردیتا ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا۔ پھر وہ اس کی سرین پر مارتا ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا، تم اس وقت تک نماز نہ توڑو جب تک بو محسوس نہ ہو اور جب تک تری کا یقین نہ ہوجائے۔
حواشی
(١) في [أ]: (عن).
(٢) في [ص]: (بن).
(٣) في [أ]: (السكن).