حدیث نمبر: 8168
٨١٦٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا مغيرة بن زياد الموصلي قال: رأيت عطاء يصلي في السقيفة في المسجد الحرام في (النفر) (١) وهم (متفرقون) (٢) عن الصفوف فقلت له: أو قيل له فقال: إني شيخ كبير، ومكة (دوية) (٣) قد كان رسول اللَّه ﷺ ⦗٢٢٠⦘ في سفر فأصابه مطر فصلى بالناس وهم في رحالهم، وبلال يسمع الناس (التكبير) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مغیرہ بن زیاد موصلی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء کو دیکھا کہ وہ مسجد حرام کے ایک سائبان میں کھڑے نماز پڑھا رہے تھے اور لوگ ادھر ادھر کھڑے تھے۔ انہوں نے لوگوں سے فرمایا کہ میں ایک بوڑھا آدمی ہوں اور مکہ ایک خشک اور گرم جگہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے کہ بارش ہوگئی، آپ نے لوگوں کو اس حال میں نماز پڑھائی کہ لوگ اپنی سواریوں پر سوار تھے اور حضرت بلال انہیں تکبیر کی آواز پہنچا رہے تھے۔

حواشی
(١) في [أ، هـ]: (السفر).
(٢) في [ص، هـ]: (يتفرقون).
(٣) أي: حارة كالصحراء، وفي [ص، هـ]: (دونه).
(٤) في [ز]: (بالتكبير).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8168
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8168، ترقيم محمد عوامة 8037)