مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
كم (يصلي) من ركعة باب: چاشت میں کتنی رکعات پڑھی جائیں گی ؟
حدیث نمبر: 8022
٨٠٢٢ - حدثنا ابن عيينة عن يزيد عن (ابن) (١) أبي ليلى (٢) قال: أدركت الناس ⦗١٨٧⦘ وهم متوافرون أو متوافون فلم يخبرني أحد أنه صلى الضحى إلا أم هانئ (فإنها) (٣) أخبرتني أنه صلاها ثمان ركعات (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے ایسے لوگوں کی زیارت کی ہے جو دین کے معاملات کا پورا پورا علم رکھتے تھے۔ حضرت ام ہانی کے علاوہ کسی نے مجھے چاشت کی نماز کے بارے میں نہیں بتایا، انہوں نے بتایا کہ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاشت کی آٹھ رکعات ادا کی ہیں۔
حواشی
(١) سقطت من: [ز].
(٢) هكذا في جميع نسخ المصنف، وفي مسند أحمد (٢٦٩٠١)، وسنن ابن ماجه (١٣٧٩)، ومسند الحميدي (٣٣٢)، ومعجم الطبراني ٢٤/ (١٠٢٩)، وسنن البيهقي ٣/ ٤٨، عن يزيد عن عبد اللَّه بن الحارث عن أم هانئ، ورواه ابن ماجه عن المؤلف عن سفيان عن يزيد عن عبد اللَّه بن الحارث.
(٣) زيادة من: [أ، ب، ك] (فإنها).