مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
كم (يصلي) من ركعة باب: چاشت میں کتنی رکعات پڑھی جائیں گی ؟
حدیث نمبر: 8021
٨٠٢١ - حدثنا وكيع قال: ثنا (شعبة) (١) عن عمرو بن مرة عن ابن أبي ليلى قال: لم يخبرنا أحد من الناس أن النبي ﷺ صلى الضحى إلا أم هانئ فإنها قالت: دخل رسول اللَّه ﷺ بيتي يوم فتح مكة فاغتسل ثم صلى ثماني ركعات يخفف فيهن الركوع والسجود لم أره صلاهن قبل يومئذ ولا بعده (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت ام ہانی کے علاوہ ہمیں کسی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چاشت کی نماز کے بارے میں نہیں بتایا، وہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے دن میرے گھر تشریف لائے، آپ نے غسل فرمایا پھر چاشت کی آٹھ رکعات ادا فرمائیں، ان رکعات میں آپ نے رکوع و سجود کو مختصر فرمایا۔ میں نے اس دن سے پہلے اور بعد میں کبھی آپ کو وہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔
حواشی
(١) في [ب، هـ]: (شريك).