مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
أي ساعة (تصلى) الضحى باب: چاشت کی نماز کس وقت ادا کی جائے گی ؟
حدیث نمبر: 8015
٨٠١٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا يوسف بن صهيب عن حبيب بن يسار عن أبي ⦗١٨٥⦘ رملة (الأزدي) (١) عن علي أنه رآهم يصلون الضحى عند طلوع الشمس فقال: هلا تركوها حتى إذا كانت الشمس (قدر) (٢) رمح أو رمحين صلوها (فتلك) (٣) صلاة الأوابين (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو دیکھا جو طلوع شمس کے وقت چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ انہوں نے اس نماز کو اس وقت کے لئے کیوں نہیں چھوڑا جب سورج ایک یا دو نیزے بلند ہوجائے۔ کیونکہ یہ اوابین (اللہ کی طرف رجوع کرنے والے نیک بندوں) کی نماز ہے۔
حواشی
(١) في [ك]: (الأرذي).
(٢) في [ك]: (قيد).
(٣) في [أ، ب، ك]: (فذلك).
(٤) مجهول؛ لجهالة أبي رملة، أخرجه ابن سعد (٦/ ٢٣٩).