حدیث نمبر: 8012
٨٠١٢ - حدثنا وكيع قال: حدثنا يحيى بن مسلم الهمداني عن سعيد بن عمرو القرشي (قال) (١): (اتبعني أبي) (٢) عبد اللَّه بن عمر (لأتعلم) (٣) منه، فما رأيته يصلي السبحة وكان إذا رآهم يصلونها قال: من أحسن ما أحدثوا سبحتهم هذه (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن عمرو قرشی کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس چھوڑ دیا تاکہ میں ان سے علم حاصل کروں۔ میں نے انہیں کبھی چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ اگر لوگ چاشت کی نماز پڑھتے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ نفل نماز کتنی اچھی نئی بات محسوس ہوتی ہے۔
حواشی
(١) سقط من: [ب].
(٢) في [هـ]: (اتبعت أبا).
(٣) في [أ]: (لا يعلم).