حدیث نمبر: 8009
٨٠٠٩ - حدثنا وكيع قال: ثنا محمد بن شريك عن ابن أبي مليكة عن ابن عباس أنه سئل عن صلاة الضحى فقال: إنها لفي كتاب اللَّه ولا (يغوص) (١) (عليها) (٢) إلا غواص ثم قرأ: ﴿فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ﴾ [النور: ٣٦] (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے چاشت کی نماز کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کا ذکر تو قرآن مجید میں بھی ہے۔ لیکن اس تک وہی پہنچ سکتا ہے جو غور وفکر کرنے والا ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ان گھروں میں جن کی تعظیم کرنے اور ان میں اس کا نام یاد کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے کہ ان میں صبح شام اللہ کی تسبیح پڑھتے ہیں۔

حواشی
(١) في [هـ]: (يعوض).
(٢) في [أ، ز، ص، ك، هـ]: (عنها)، وانظر: طرح التثريب (٣/ ٥٧)، والدر المنثور (٦/ ٢٠٦).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 8009
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8009، ترقيم محمد عوامة 7880)