حدیث نمبر: 7990
٧٩٩٠ - حدثنا وكيع قال: نا الأعمش عن أبي الضحى عن مسروق، قال: كنا نقرأ في المسجد فيثبت الناس في القراءة بعد قيام ابن مسعود ثم نقوم فنصلي (الضحى) (١) فبلغ ذلك ابن مسعود فقال: عباد اللَّه، لم تحملوا عباد اللَّه ما لم يحملهم اللَّه إن كنتم لابد فاعلين ففي بيوتكم (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ ہم مسجد میں قرآن پڑھا کرتے تھے، بعض اوقات لوگ حضرت ابن مسعود کی مجلس سے اٹھ جانے کے بعد بھی ان کی قرآن کیا کرتے تھے۔ پھر اٹھ کر ہم چاشت کی نماز ادا کرتے۔ جب اس بات کا حضرت ابن مسعود کو علم ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ اے اللہ کے بندو ! تم اللہ کے بندوں کو ان باتوں کا ذمہ دار کیوں بناتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے ان پر لازم نہیں کیں۔ اگر تم نے یہ نماز پڑھنی بھی ہے تو اپنے کمروں میں اسے ادا کرو۔

حواشی
(١) في [س، هـ]: (للضحى).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7990
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7990، ترقيم محمد عوامة 7861)