حدیث نمبر: 7970
٧٩٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا هشيم قال: أخبرنا عبد الملك بن عمير قال: حدثنا جابر بن سمرة أن أناسًا شكوا سعدًا إلى عمر بن الخطاب قال: وشكوه في الصلاة فكتب إليه عمر فقدم عليه قال: فذكر الذي شكوه فيه (١) (وذكر) (٢) (أنهم) (٣) شكوه في الصلاة فقال سعد: إني لأصلي بهم صلاة رسول اللَّه ﷺ إني لأركد بهم في الأوليين وأحذف (عنهم) (٤) في الآخريين قال: ذلك الظن بك يا أبا إسحاق (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے حضرت عمر سے حضرت سعد کی شکایت کی اور ان کے طریقۂ نماز پر اعتراض کیا۔ حضرت عمر نے انہیں خط لکھ کر بلوایا جب وہ آئے تو حضرت عمر نے انہیں لوگوں کی شکایت اور طریقہ نماز پر اعتراض سے آگاہ کیا۔ حضرت سعد نے فرمایا کہ میں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اندازِ نماز کے مطابق نماز پڑھاتا ہوں، میں پہلی دو رکعتوں کو لمبا کرتا ہوں اور دوسری دو رکعتوں کو مختصر رکھتا ہوں۔ یہ سن کر حضرت عمر نے فرمایا کہ اے ابو اسحاق ! میرا تمہارے بارے میں یہی گمان تھا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ك]: زيادة (إليه).
(٢) في [ب]: (وذعر).
(٣) في [ك]: (أنه).
(٤) في [أ، ك]: (بهم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7970
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٧٥٥)، ومسلم (٤٥٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7970، ترقيم محمد عوامة 7841)