مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
في المرأة تغتسل أتنقض شعرها؟ باب: کیا عورت غسل کرتے ہوئے اپنے بال کھولے گی؟
حدیث نمبر: 797
٧٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن أيوب (بن) (١) موسى عن (سعيد) (٢) بن أبي سعيد عن عبد اللَّه بن رافع عن أم سلمة (قالت) (٣): قلت يا رسول اللَّه إني امرأة أشد (ضفر رأسي) (٤)، أفأنقضه لغسل الجنابة؟ فقال: "إنما يكفيك من ذلك أن تحثي عليه ثلاث (حثيات) (٥) من ماء، ثم تفيضين عليك من الماء، فتطهرين، أو فإذا أنت قد طهرت" (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اپنی مینڈیاں زور سے باندھتی ہوں، کیا میں غسل کے لئے انہیں کھولوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ تم بالوں پر تین مرتبہ پانی ڈال لو اور پھر سارے جسم پر پانی بہاؤ، تم پاک ہو جاؤ گی۔
حواشی
(١) [أ، خ، هـ]: (عن موسى).
(٢) في [جـ]: (سعد).
(٣) سقط من: [أ، خ].
(٤) في [هـ]: (أضفر رأسي).
(٥) في [ك]: (جفنات).