٧٩٠٥ - حدثنا ابن فضيل عن داود بن أبي هند عن الوليد بن عبد الرحمن (الجرشي) (١) عن جبير بن نفير الحضرمي عن أبي ذر قال: سمعنا مع رسول اللَّه ⦗١٥٨⦘ ﷺ رمضان فلم يصل بنا حتى بقي سبع من الشهر، فقام بنا حتى ذهب ثلث الليل، ثم لم يقم بنا في السادسة، ثم قام بنا في (الخامسة) (٢) حتى ذهب شطر الليل فقلنا: يا رسول اللَّه لو قمت بنا بقية ليلتنا هذه فقال: "إنه من قام مع الأمام حتى ينصرف كتب له قيام ليلة"، قال: ثم صلى بنا (حتى) (٣) بقي ثلاث من الشهر ثم صلى بنا وجمع أهله ونساءه قال: فقام حتى تخوفنا أن يفوتنا الفلاح، قال: قلت: وما الفلاح؟ قال: (السحور) (٤) (٥).حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ رمضان میں ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے۔ آپ نے تیئس رمضان تک ہمیں تراویح کی نماز نہ پڑھائی، پھر جب رمضان کے سات دن باقی رہ گئے تو آپ نے ہمیں ایک تہائی رات تک نماز پڑھائی، پھر اگلی رات آپ نے تراویح نہ پڑھائی، پھر اگلی رات آپ نے ہمیں آدھی رات تک نماز پڑھائی۔ پھر ہم نے عرض کیا یارسول اللہ ! اگر آپ ہمیں باقی راتوں میں نماز پڑھا دیں تو اچھا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ جو شخص امام کے نماز پڑھتے رہنے تک اس کے ساتھ کھڑا رہا اس کے لئے پوری رات نماز پڑھنے کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ آپ نے پھر ہمیں نماز پڑھائی اور جب مہینے کی تین راتیں باقی رہ گئیں تو آپ نے ہمیں تراویح کی نماز پڑھائی اور آپ نے اپنے اہل و عیال اور خواتین کو جمع فرمایا۔ اور اتنی دیر نماز پڑھائی کہ ہمیں ڈر ہوا کہ کہیں فلاح فوت نہ ہوجائے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا یہ فلاح کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا سحری۔