حدیث نمبر: 7858
٧٨٥٨ - حدثنا وكيع ثنا مسعر عن أبي صخرة جامع بن شداد قال: سمعت حمران بن أبان مولى عثمان يقول: كنت أضع لعثمان طهوره فما أتى عليه (يوم) (١) إلا وهو (يفيض) (٢) (منه) (٣) عليه نطفة من ماء، فقال عثمان: حدثنا رسول اللَّه ﷺ عند انصرافنا من صلاتنا هذه (قال) (٤) مسعر: (أراه) (٥) قال العصر فقال: ما أدري أحدثكم أو أسكت قال: قلنا يا رسول اللَّه إن كان خيرا فحدثنا وإن كان غير ذلك فاللَّه ورسوله أعلم، فقال رسول اللَّه ﷺ: "ما من رجل يتوضأ فيحسن الوضوء ⦗١٤٧⦘ ثم يصلي إلا غفر له ما بينه وبين الصلاة الأخرى" (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حمران بن ابان مولی عثمان فرماتے ہیں کہ میں حضرت عثمان کے لئے غسل کا پانی رکھا کرتا تھا۔ وہ ہر روز اس سے غسل کرتے خواہ تھوڑا سا پانی استعمال کرتے۔ ایک دن انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس نماز (عصر) کے بعد فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ ایک بات میں تمہیں بتاؤں یا خاموش رہوں ؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر اس میں خیر ہے تو بتادیں، اگر وہ خیر سے ہٹی ہوئی ہے تو اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ پھر آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب بھی کوئی انسان اچھی طرح وضو کرتا ہے اور پھر نماز پڑھتا ہے تو اس کے پچھلی نماز تک کے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔

حواشی
(١) سقط من: [أ].
(٢) في [ب]: (يقيض).
(٣) في [أ، ك]: (فيه).
(٤) في [أ]: (فقال).
(٥) في [هـ]: (راة)، وفي [ل]: (رآه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7858
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٢٣١)، والبزار (٤٠٧)، وبنحوه أحمد (٤٠٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7858، ترقيم محمد عوامة 7730)