مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من كره ذلك؟ باب: جن حضرات نے مسجد میں عورتوں کی حاضری کو مکروہ قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 7830
٧٨٣٠ - حدثنا زيد بن (حباب) (١) ثنا ابن لهيعة حدثتي عبد الحميد بن المنذر (الساعدي) (٢) عن أبيه عن جدته أم حميد قالت: قلت يا رسول اللَّه يمنعنا أزواجنا أن (نصلي) (معك) (٣) ونحب الصلاة معك فقال رسول اللَّه ﷺ: "صلاتكن في بيوتكن أفضل من صلاتكن في حجركن وصلاتكن في حجركن أفضل من صلاتكن في الجماعة" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام حمید فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یار سول اللہ ! ہمارے خاوند اس بات سے منع کرتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ نماز پڑھیں ، حالانکہ ہمیں آپ کے ساتھ نماز پڑھنا پسند ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تمہارے لئے اپنے کمروں میں نماز پڑھنا گھر میں نماز پڑھنے سے افضل ہے اور گھروں میں نماز پڑھنا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے افضل ہے۔
حواشی
(١) في [أ]: (خباب).
(٢) في [أ، ع]: (الساعي).
(٣) سقط من: [أ].
(٤) مجهول؛ عبد الحميد وأبوه مجهولان، أخرجه الطبراني ٢٥/ (٣٥٦)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٣٧٩)، وابن الأثير في أسد الغابة ٧/ ٣٢٣، والبيهقي ٣/ ١٣٢، كما أخرجه أحمد (٢٧٠٩٠)، وابن حبان (٢٢١٧)، وابن خزيمة (١٦٨٩)، وابن عبد البر في الاستيعاب ٤/ ٤٤٦.