مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من كره ذلك؟ باب: جن حضرات نے مسجد میں عورتوں کی حاضری کو مکروہ قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 7828
٧٨٢٨ - حدثنا وكيع ثنا إياس بن دغفل، قال: سئل الحسن عن امرأة جعلت عليها أن أخرج زوجها من السجن أن تصلي في كل مسجد تجمع فيه الصلاة بالبصرة ركعتين، (فقال) (١) الحسن: تصلي في مسجد قومها، فإنها لا تطيق ذلك، لو أدركها عمر ابن الخطاب لأوجع رأسها.مولانا محمد اویس سرور
حسن سے سوال کیا گیا کہ ایک عورت نے نذر مانی کہ اگر اس کا خاوند جیل سے آزاد ہوگیا تو وہ بصرہ کی ہر اس مسجد میں دو رکعت نماز پڑھے گی جس میں جماعت ہوتی ہے۔ اس نذر کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا وہ اپنی قوم کی مسجد میں نماز پڑھے، کیونکہ وہ اپنی اس نذر کو پوری کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ اگر حضرت عمر اسے دیکھتے تو اس کے سر پر مارتے۔
حواشی
(١) في [ب]: (قال).