مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
من كره ذلك؟ باب: جن حضرات نے مسجد میں عورتوں کی حاضری کو مکروہ قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 7825
٧٨٢٥ - حدثنا وكيع ثنا إسرائيل عن عبد الأعلى عن سعيد بن جبير عن عبد اللَّه ابن عباس أن امرأة (سألته) (١) عن الصلاة في المسجد يوم الجمعة (فقال) (٢): صلاتك في مخدعك أفضل من صلاتك في بيتك، وصلاتك في بيتك أفضل من صلاتك في حجرتك، وصلاتك في حجرتك أفضل من صلاتك في مسجد قومك (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے جمعہ کی نماز مسجد میں ادا کرنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تمہارے لئے اپنے پردے میں نماز پڑھنا اپنے کمرے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اپنے کمرے میں نماز پڑھنا اپنے گھر مں ن نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور اپنے گھر میں نماز پڑھنا اپنی قوم کی مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ك]: (سألت).
(٢) في [أ]: (قال).