حدیث نمبر: 7818
٧٨١٨ - حدثنا أبو أسامة عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال: كانت امرأة لعمر تشهد صلاة الصبح والعشاء في جماعة في المسجد، فقيل (لها) (١): لم تخرجين وقد تعلمين أن عمر يكره ذلك ويغار قالت: فما يمنعه أن (ينهاني) (٢) قالوا: يمنعه قول رسول اللَّه ﷺ: "لا تمنعوا إماء اللَّه مساجد اللَّه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کی ایک بیوی فجر اور عشاء کی نماز جماعت سے پڑھا کرتی تھی۔ کسی نے اس سے کہا کہ تم نماز کے لئے کیوں جاتی ہو حالانکہ تم جانتی ہو کہ حضرت عمر اس بات کو ناپسند خیال فرماتے ہیں اور اس پر غصہ کھاتے ہیں ؟ اس خاتون نے کہا کہ پھر وہ مجھے منع کیوں نہیں کرتے ؟ لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ قول انہیں تمہیں منع کرنے سے روکتا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی بندیوں کو مسجدوں میں آنے سے نہ روکو۔

حواشی
(١) في [أ]: (له).
(٢) في [أ]: (ينهانا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب صلاة التطوع والإمامة / حدیث: 7818
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٨٧٣)، وأحمد (٤٥٢٢)، وبنحوه مسلم (٤٤٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7818، ترقيم محمد عوامة 7690)