مصنف ابن ابي شيبه
كتاب صلاة التطوع والإمامة
في الأمير يؤخر الصلاة عن الوقت باب: اگر کوئی امیر نماز کو وقت سے مؤخر کرے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 7803
٧٨٠٣ - حدثنا محمد بن فضيل عن الأعمش عن مسلم قال: كنت أجلس مع مسروق وأبي عبيدة في المسجد في زمن زياد فإذا دخل وقت الظهر قاما فصليا ثم يجلسان حتى إذا أذن (١) المؤذن وخرج الإمام قاما فصليا ويفعلانه في العصر.مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم فرماتے ہیں کہ میں زیاد کے زمانے میں حضرت مسروق اور حضرت ابو عبیدہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ جب ظہر کا وقت داخل ہوا تو ان دونوں نے ظہر کی نماز پڑھی، پھر بیٹھ گئے اور جب مؤذن نے اذان دی تو انہوں نے امام کے ساتھ بھی نماز پڑھی اور وہ دونوں عصر کی نماز میں بھی یونہی کرتے تھے۔
حواشی
(١) في (أ) زيادة: (في المسجد).